تازہ ترین خبریں, قومی خبریں

ایسی اپوزیشن اللہ سب کو دے

ایسی اپوزیشن اللہ سب کو دے
August 12, 2018 8:01 pm — BBC Urdu

پاکستان
اگر یہ درست ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ کچھ بھی کرنا پڑے اس بار نواز شریف کی پارٹی کو دوسری مدت کے لیے برسرِاقتدار نہیں آنے دینا اور تحریکِ انصاف کو کسی بھی قیمت پر حکومت سازی کا موقع دینا ہے۔ تو یہ راز سیاسی جماعتوں پر 2014 میں ہی افشا ہو گیا تھا جب اسلام آباد کے ڈی چوک پر طویل دھرنا ہوا اور تھرڈ ایمپائر کی انگلی کا سٹیج سے بار بار تذکرہ ہوا۔

شاید اسی لیے اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر نواز شریف کو سخت سست کہتے ہوئے بھی ان کی بھرپور حمایت کی۔ اکثریتی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ ہم نواز شریف کو نہیں بلکہ جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچا رہے ہیں۔

جب خطرہ بظاہر ٹل گیا تو نواز شریف پھر اپنی کچن کیبینٹ والی پرانی عادت پر اتر آئے۔ وہ چاہتے تو ایوان کے اندر ملنے والی بھرپور حمایت کو اگلے چار برس کے لیے ’سب کو ساتھ لے کر چلو ` کی حکمتِ عملی میں بدل سکتے تھے مگر حسبِ توقع ایسا نہیں ہوا اور نواز شریف نے کنٹینری شب خون کو کوئی اتفاقی حادثہ سمجھ کر ٹال دیا۔

یہ بھی پڑھیے
’یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہے‘

شیری رحمان سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر

نواز شریف چاہتے تو پانامہ سکینڈل کھلنے کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے اس سکینڈل کی سماعت کے انکار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مرضی کا تحقیقی کمیشن بنانے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپوزیشن کی طرف سے ایک پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی کی تجویز کو فوری غیر مشروط تسلیم کر کے معاملے کو ایوان میں ہی نپٹا سکتے تھے۔

اس وقت تحریکِ انصاف بھی موڈ میں تھی کہ پانامہ کا شخشخہ پارلیمنٹ کے اندر نمٹا لیا جائے مگر وہ نواز شریف ہی کیا جو درست وقت پر غلط فیصلے نہ کرے۔

چنانچہ پھر تحریکِ انصاف اور شیخ رشید وغیرہ پانامہ پیٹیشن بذریعہ اسلام آباد لاک ڈاؤن سپریم کورٹ میں دوبارہ لے گئے اور سپریم کورٹ نے اس بار سماعت سے انکار نہیں کیا۔ اس کے بعد اعلی عدالت سے نیب عدالت تک کا شریفانہ سفر اور جزا و سزا کا ماجرا آپ کے سامنے ہے۔

مگر پانامہ تحقیقات کے نتائج سے قطع نظر اپوزیشن کے اس کمیٹمنٹ کا کیا ہوا کہ ہم شریفوں کو نہیں جمہوری نظام کو کسی ماورائے پارلیمان قوت کے شب خون سے بچانا چاہتے ہیں؟

جب بلوچستان میں گذشتہ دسمبر میں اچھی خاصی رواں ثنااللہ زہری کی مسلم لیگ نواز مخلوط حکومت کے پاؤں تلے سے کھلم کھلا قالین کھینچا گیا تو کیا اس وقت پیپلز پارٹی کو مہرہ بنتے ہوئے اندازہ نہیں ہوا کہ یہ کھیل اب سینیٹ میں لیگی حکومت کو اکثریت لینے سے روکنے پر نہیں رکے گا۔

پیپلز پارٹی نے اس وقت بلوچستان میں جو پراسرار حکمتِ عملی اختیار کی اور پھر سینیٹ کے الیکشن میں جس طرح تحریکِ انصاف سے ہاتھ ملا کر رضا ربانی جیسی شخصیت کو اپنا امیدوار نامزد کرنے سے انکار کر کے کسی بالائے پارلیمان قوت کی مرضی کے مثبت نتائج پیدا کرنے میں جو مدد دی۔ اس کی فارسی آصف زرداری کیا 29 بے نامی اکاؤنٹس کا فیصلہ ہونے کے بعد بتائیں گے؟

سینیٹ الیکشن کے دوران پیپلز پارٹی نے فیصلہ کسی انفرادی غصے کے تحت کیا یا کسی نے کوئی لالی پاپ دکھایا یا کسی نے بلیک میل کر کے استعمال کر لیا؟ کیا وجہ تھی کہ پچھلے پچاس برس میں بالائے جمہوریت قوتوں سے سب سے زیادہ مار کھانے والی جماعت کو یہ سمجھ میں نہ آیا کہ اب کیا کھیل شروع ہے اور اس کا اختتام کیسے ہو گا؟

25 جولائی کو انتخابات منعقد کروانے کے الیکشن کمیشن کے اعلان سے بہت پہلے ہی سیاسی اسٹاک ایکسچینج میں خبر پھیل چکی تھی کہ ایک خاص پارٹی کے لیے بھاری تعداد میں سیاسی شیئرز اٹھانے کا کام شروع ہو چکا ہے۔ الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی نواز لیگ ہو کہ پیپلز پارٹی، اے این پی کہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں، سب الگ الگ چیخ رہی تھیں کہ انتخابی نتائج کو ایک خاص شکل دینے کے لیے محکمہ زراعت منہ مانگے داموں میں فصل اٹھا رہا ہے اور انکار پر زبردستی بھی کی جا رہی ہے۔

کیا وہ وقت نہیں تھا کہ تمام شکوہ کناں عاقل بالغ سیاسی جماعتیں انا، ماضی اور حال ِ بے حال کو بھول بھال کر اپنی اپنی فصل بچانے کے لیے قبل از 25 جولائی وسیع تر انتخابی اتحاد کے بارے میں سوچتیں کہ جس اتحاد کا خیال انھیں 25 کے بعد آیا؟ ایسا کرنے سے کس لالچ، لالی پاپ یا آسمانی مدد کے انتظار نے روکا تھا؟

اب جو اتحاد ہوا ہے وہ لڑائی کے بعد یاد آنے والا مُکا ہے۔ یعنی جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچانے کے لیے سڑک پر بھی آتے رہیں گے اور ’دھاندلی کی پیداوار‘ اسمبلیوں میں بھی نئی حکومت کو ٹف ٹائم دیتے رہیں گے۔ مگر اسی ’فراڈ الیکشن‘ کی پیداوار صوبائی اسمبلیوں میں قومی اسمبلی سے الگ حکمتِ عملی پر بھی بنا اتحاد کاربند رہیں گے۔

تحریکِ انصاف جب اپوزیشن میں تھی تو اس نے بھی یہی تو کیا تھا جو آپ آج کرنا چاہ رہے ہیں۔ اب جبکہ آپ نے آدھا انتخابی بکرا حلال آدھا حرام تسلیم کر ہی لیا ہے تو پھر حکومت بھی چلنے دیں اور بطور تعمیری اپوزیشن بھرپور کردار ادا کرتے رہیں۔ مگر الگ الگ یا یکجا ہو کر؟ یہی سوال آپ کا جمہوری و ذہنی مستقبل طے کرے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہ

Read more

تازہ ترین خبریں, قومی خبریں

مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری، پی ٹی آئی 158 کیساتھ سب سے بڑی جماعت

مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری، پی ٹی آئی 158 کیساتھ سب سے بڑی جماعت

August 11, 2018 8:05 pm — Jang

الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے ساتھ پارٹی پوزیشن جاری کر دی ہے،تحریک انصاف 158 اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔

الیکشن کمیشن اعلامیے کے مطابق تحریک انصاف نے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 116 جنرل نشستیں جیتیں ، 9 آزادا اراکین پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جس کے بعد ان کی تعداد 125 ہو گئی،تاہم5 اقلیتی اور خواتین کی 28 نشستیں ملنے کے بعد نشستوں کی مجموعی تعداد 158 تک پہنچ گئی۔

ن لیگ نے انتخابات میں قومی اسمبلی کی 64 نشستیں جیتیں لیکن کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہواتاہم انہیں مخصوص اقلیتی2 اور خواتین کی 16 نشستیں ملیں جس کے بعد ان کی تعداد 82 ہو گئی ہے۔

عام انتخابات میں پی پی پی کو42 نشستوں پر کامیابی ملی ، انہیں 2 اقلیتی اور 9 خواتین کی مخصوص نشستیںبھی ملیں، جس کے بعد ان کی53 نشستیں ہوگئیں۔

متحدہ مجلس عمل نے 12 نشستیں جیتیں اور کوئی بھی آزاد رکن ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا،اقلیتی ایک اور خواتین کی 2 نشستیں ملی ہیں جس کے بعد اسمبلی میں ان کے ارکان کی تعداد 15 ہوچکی ہے ۔

ایم کیو ایم پاکستان نے قومی اسمبلی کی 6 نشستیں جیتیں اوران کے ساتھ بھی آزاد رکن شامل نہیں ہوا،انہیں خواتین کی ایک نشست ملی ہے یوں ان کے ارکان اسمبلی کی تعداد 7 ہوگئی ہے ۔

ق لیگ اور بلوچستان عوامی پارٹی نے قومی اسمبلی کی 4، 4 نشستیں جیتیں لیکن ان دونوں جماعتوں کے ساتھ کوئی بھی آزاد رکن نہ آیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی قومی اسمبلی کی 3 نشستیں جبکہ گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس قومی اسمبلی میں 2 نشستیں جیتیں اوران دونوں پارٹیوں میں بھی کوئی آزاد رکن شامل نہ ہواتاہم عوامی نیشنل پارٹی، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی نے قومی اسمبلی کی ایک، ایک نشست جیتی۔

قومی اسمبلی کی 13 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب قرار پائے جن میں سے 9 تحریک انصاف میںچلے گئے ،4 اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ 3 نشستوں پر انتخابات ملتوی ہوئے یا نتائج رکے ہوئے ہیں۔

بشکریہ جنگ

Read more

تازہ ترین خبریں, قومی خبریں

چائے والا‘ پی ٹی آئی ٹکٹ پر ’ایم این اے‘ منتخب

’چائے والا‘ پی ٹی آئی ٹکٹ پر ’ایم این اے‘ منتخب ،


تبدیلی آ نہیں رہی ہے بلکہ تبدیلی آگئی ہے ،تحریک انصاف کے ٹکٹ پر چائے بناکر روزی روٹی کمانے والا محنت کش گل ظفر خان رکن قومی اسمبلی بن گیا ہے ۔

این اے 41 باجوڑ سے منتخب ہونے والے گل ظفر خان نے کہا ہے کہ حلقے میں تعلیم کا فروغ اور عوامی خدمت اس کی اولین ترجیح ہوگی ،سب کےلئے مثال بنوںگا۔

وہ دن گئے جب پاکستان میں صرف سرمایہ دار ،وڈیرے اور جاگیر دار ہی سیاست کرتے اور ایوان اقتدار تک پہنچتے تھے ۔

پی ٹی آئی نے گل ظفر خان کو جواندرون روالپنڈی میں ایک ہوٹل پر چائے بناتے تھے انہیں ٹکٹ دیا اور وہ باجوڑ سے جیت کر ایوان اقتدار میں آرہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی کی سوچ بلند ہے اور وہ تبدیلی کے کے بڑے بڑے خواب بھی دیکھتے ہیں،وہ اپنے دوستوں سے ملے اور ان کےلئے چائے بھی بنائی ۔

گل ظفر کو رکن قومی اسمبلی بننے کی خوشی ہے اور ذمہ داریوں کا احساس بھی ہے،وہ کہتے ہیں ان کے پاس ایک ہی موقع ہے، اپنے علاقے کے مسائل حل کر نے اور حلقے کے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے انتھک محنت کرنا ہو گی۔

بشکریہ جنگ

Read more

تازہ ترین خبریں, قومی خبریں

عمران خان منسٹر انکلیو کے عام گھر میں رہیں گے

عمران خان منسٹر انکلیو کے عام گھر میں رہیں گے’
August 10, 2018 7:05 pm — Jang

ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہےکہ عمران خان وزیراعظم ہاؤس یا پنجاب ہاؤس میں رہنے کی بجائے منسٹر انکلیو کے عام گھر میں رہیں گے۔

بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا جب کہ ڈپٹی اسپیکر کی نامزدگی کا اعلان جلدکردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا پنجاب کے وزیراعلیٰ کا معاملہ تاحال حل طلب ہے اس پر کوئی نامزدگی نہیں ہوئی ہے۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ عمران خان وزیراعظم ہاؤس یا پنجاب ہاؤس میں قیام نہیں کررہے، وہ منسٹر انکلیو میں عام گھر میں رہیں گے اور اگر وہاں مرمت کی ضرورت ہوئی تو وہ تب تک پنجاب ہاؤس میں قیام کرسکتے ہیں لیکن کسی خصوصی گھر میں نہیں جائیں گے۔

ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ بنی گالہ میں جو بھی سیکیورٹی انتظامات ہوئے اس کے اخراجات خود عمران خان نے برداشت کیے ہیں، اس کے لیے ایک روپیہ بھی سرکاری خزانے سے نہیں لیا گیا اور اگر عمران خان کی رہائش گاہ کی تزئین و آرائش کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی چیئرمین پی ٹی آئی خود ادا کریں گے، اس کے لیے بھی سرکاری فنڈ سے خرچ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، یہی وہ مثال ہے جس کا عمران خان نے قوم سے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہورہی ہے جس میں چند سو افراد شریک ہوں گے اور اس تقریب کی میزبانی بھی ایوان صدر کے ذمہ ہے اس لیے ہمارے بس میں ہوتا تو پی ٹی آئی کے کارکنان کو بلاتے جن کی وجہ سے آج پاکستان یہ دن دیکھ رہا ہے۔

ترجمان پی ٹی آئی نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمشنر سے انہی امور پر بات ہوئی جن پر مودی کی مبارکباد کی کال پر ہوئی تھی، ہم نے کشمیر سمیت تمام معاملات پر کھل کر بات کی، دونوں ملکوں کے بہتر تعلقات مفادات میں ہیں، ہم ریجنل کوآپریشن چاہتے ہیں، بھارت کی طرف سے مثبت جواب آیا تو عمران خان بھی تعلقات کی بہتری چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم کو تقریب حلف برداری میں مدعو کرنے کی بات نہیں ہوئی، وقت کی کمیابی کی وجہ سے بھارتی وزیراعظم کو نہیں بھلاسکے۔

بشکریہ جنگ

Read more

تازہ ترین خبریں, قومی خبریں

13 اگست کو حکومت سازی کا پہلا مرحلہ شروع ہو گا

13 اگست کو حکومت سازی کا پہلا مرحلہ شروع ہو گا
August 10, 2018 1:22 pm — BBC Urdu


پاکستان میں عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے پہلے مرحلے میں قومی اسمبلی کا اجلاس 13 اگست کو طلب کر لیا گیا۔

اس اجلاس میں نو متخب اراکینِ قومی اسمبلی حلف اٹھائیں اور اس کے بعد سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا۔

قومی اسمبلی کے نو منتخب سپیکر کی نگرانی میں قائدِ ایوان یا وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔

صدرِ پاکستان ممنون حسین نے نگران وزیراعظم ناصرالملک کی سفارش پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلوانے کی سمری کی منظوری دی ہے۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے 25 جولائی کے انتخابات میں کامیاب امیدواروں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے بعد اب 13 اگست کو قومی اسمبلی اجلاس طلب کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں!

کامیابی کے بعد وزارت عظمیٰ کی شیروانی تک کا سفر

الیکشن 2018: بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

عمران خان کی وکٹری سپیچ: ’سب اداروں کو مضبوط کروں گا‘

یاد رہے کہ 18ویں ترمیم میں اس قانون کی منظوری دی گئی تھی کہ الیکشن کے بعد 21 روز کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلوایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 اگست کو بلوائے گئے اجلاس میں اراکین کی حلف برداری ہو گی۔

الیکشن کے بعد بلوائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب اراکین کی رہنمائی کے لیے خصوصی استقبالیہ کاؤنٹر قائم کیے ہیں۔

ان خصوصی کاؤنٹرز پر نو منتخب اراکین کے کارڈز کے اجرا کے لیے تصاویر بنائی جائیں گی۔

عموماً اراکین کی حلف برداری کے بعد اگے دن سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوتا ہے لیکن گذشتہ اسمبلی میں اراکین کی حلف برداری اور سپیکر کا انتخاب ایک ہی روز میں مکمل ہو گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 13 اگست کو بلوائے گئے اجلاس میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب بھی اُسی روز مکمل ہو جائے گا۔

جس کے بعد امکان ہے کہ 15 اگست کی صبح وزیراعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری ہو گا اور شام میں قومی اسمبلی قائد ایوان کو منتخب کرے۔ گی۔

اسمبلی سے منتخب ہونے کے بعد ایوان صدر میں ایک تقریب کے دوران صدر ممنون حسین نو منتخب وزیراعظم سے حلف لیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے حکومتِ سازی کو وقت پر مکمل کرنے کے لیے صدر سے اپنا دورہِ برطانیہ ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

صدرِ پاکستان ممنون حسین نے 15 سے 19 اگست تک برطانیہ کا دورہ کرنا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ

Read more

تازہ ترین خبریں, قومی خبریں

وزیراعلیٰ پنجاب کی دوڑ میں کون کون ہے شامل ؟

وزیراعلیٰ پنجاب کی دوڑ میں کون کون ہے شامل ؟
August 10, 2018 8:05 pm — Jang

ملک بھر میں سب کی نظریں ’کون بنے گا وزیراعلیٰ پنجاب ‘ ایسے اہم معاملے پر لگی ہوئی ہیں،کون وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں اب تک ہے شامل اور کون اس سے باہر ہوگیا ہے ۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزارت اعلیٰ کے معاملے پر بات چیت گرم ہے ،کون کس امیدوار کےلئے لابنگ کررہا ہے ،اس دوڑ میںکون پیچھے سے آگے اور آگے سے پیچھے جارہا ہے؟

وزیراعلیٰ پنجاب کے حوالے سے آخری فیصلہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے کرنا ہے ،لیکن اس اہم عہدے کےلئےجاری دوڑ میں کون کون شامل ہے ،یہ بات تاحال موضوع بنی ہوئی ہے۔

تخت لاہوریعنی ملک کے سب سےبڑے صوبے کا کون حکمران ہوگا؟10 سال تک وزیراعلیٰ رہنے والے شہبازشریف انتخابی نتائج کےبعد پہلے ہی اس دوڑ سے باہر ہوچکے ہیں۔

2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعدپی ٹی آئی پنجاب میں پہلے سے ہی تخت لاہور کی دعوی دار بن چکی ، آزاد ارکان کی پارٹی میں شمولیت سے نمبرز گیم اب صرف اسی کے حق میں ہے، تحریک انصاف کے کئی نومنتخب ارکان وزیراعلی پنجاب کی دوڑ میں شامل ہیں۔

پی پی 159 لاہور سے دوسری بار منتخب ہونے والے ڈاکٹرمراد راس کا شمارفیورٹس میں کیا جارہا ہے، پیشے کے اعتبار سے لینڈ لارڈ، مراد راس بزنس ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈ کی اعزازی ڈگری رکھتے ہیں۔

پی پی 158 لاہور سے رکن پنجاب اسمبلی بننے والے عمران خان کے قریبی ساتھی علیم خان وزیر اعلی پنجاب کی دوڑ میں شامل ہیں، پی پی 27 جہلم سے منتخب ہونے والے فواد چوہدری بھی مضبوط امیدوار ہیں،وہ این اے 67 سے بھی منتخب ہوئے ہیں،پیشے کے اعتبار سے سپریم کورٹ کے وکیل اور پارٹی کے ترجمان کی حیثیت سے ذمہ داری نبھارہے ہیں۔

ایک اور اہم امیدوار جنوبی پنجاب پی پی 294 راجن پور سے منتخب ہونے والے حسنین دریشک ہیں،وہ چوہدری پرویز الہی کی وزارت عظمی کے دوران پنجاب کے وزیر خزانہ بھی رہ چکے ہیںاور پی پی 21 چکوال سے منتخب رکن پنجابی اسمبلی یاسر ہمایوں ، وزیر اعلی پنجاب بننے کے لیے ایک مضبوط امیداور ہیں ،اس کے ساتھ ہی پی پی 88 میانوالی سے کامیاب ہونے والے سبطین خان بھی اگلے وزیر اعلی پنجاب کے عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں۔

لاہور سے ڈاکٹر یاسمین راشد بھی وزیر اعلی پنجاب کے عہدے کے لیے ایک مضبوط امیداور ہیں،خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے کی صورت میں ان کی نامزدگی کا واضح امکان موجود ہیں۔

وزیر اعلی پنجاب بننے کے لیے اہم رہنماوں کی طرف سے لابنگ کا عمل جاری ہے،لیکن تمام تر نظریں چیئرمین عمران خان پر جمی ہیںکیونکہ وہی ملک کے سب سے بڑے صوبے کی حکمران کے نام کا فال نکالیں گے۔

بشکریہ جنگ

Read more

تازہ ترین خبریں, قومی خبریں

2018 کے انتخابی نتائج: ’بس اپنے کام سے کام رکھو‘

2018 کے انتخابی نتائج: ’بس اپنے کام سے کام رکھو‘
August 10, 2018 5:45 pm — BBC Urdu

پاکستان الیکشن
بی بی سی نے 25 جولائی کے عام انتخابات میں دو پریزائیڈنگ افسروں کی رائے لی تو معلوم ہوا کہ دونوں کے مطابق اس روز آر ٹی ایس نظام بخوبی کام کر رہا تھا۔ ایک کے مطابق انھیں نتائج بھیجنے سے روک دیا گیا تھا۔

محمد رمضان (فرضی نام) کو جو ایک سکول ٹیچر ہیں، 25 جولائی کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران راولپنڈی میں قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں پریزائیڈنگ افسر تعینات کیا گیا تھا۔

اس دن ان کے پولنگ سٹیشن پر کیا ہوا، اس بارے میں وہ خود اپنی روداد سناتے ہیں۔

’مجھے24 جولائی کو رات دس بجے کے قریب فون آیا جس پر کوئی نمبر تو نہیں دکھائی دے رہا تھا صرف اس پر ’ان نون‘ (نامعلوم) لکھا ہوا تھا۔ فون کرنے والے نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ وہ الیکشن کمیشن سے بات کر رہا ہے۔

نتائج تاخیر سے آنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا موقف تھا کہ آر ٹی ایس سسٹم نے کام چھوڑ دیا تھا لیکن جمعرات کو پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سیکریٹری الیکشن کمیشن سے جب اس بارے میں دریافت کیا تو اُنھوں نے کہا کہ تکنیکی نظام سست روی کا شکار تھا، مکمل طور پر بند نہیں ہوا تھا۔

اسی طرح ایک سرکاری سکول کی استانی ابیہا فاروقی نے اپنے سوشل میڈیا کے ایک اکاؤنٹ پر اس روز کی داستان تحریر کرتے ہوئے لکھا کہ ان کا آڑ ٹی ایس نظام بھی درست کام کر رہا تھا۔

انھوں نے لکھا کہ جس تحصیل میں انھیں تعینات کیا گیا، وہاں میں نے ایک وڈیرے کے اپنی نشست برقرار رکھنے کے لیے خوب پیسہ خرچ کرنے کی کہانیاں سنی تھیں۔ میرے فکرمند والد نے میرے ماموں کو ساتھ بھیجا۔

ابیھا کے مطابق انھیں آر ٹی ایس کے تنصیب کے لیے پولنگ سے محض دو روز قبل ریٹرنگ افسر نے طلب کیا تھا۔

کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے آر ٹی ایس نظام کی خرابی سے متعلق اعتراضات کے بعد الیکشن کمیشن نے اس معاملے کو تحقیقات کے لیے حکومت کو دعوت دی تھی۔ اس کے لیے اس نے کیبنٹ ڈویژن کو ایک ماہ کا وقت دیا تھا تاہم ابھی تک نا تو تحقیقات کا بظاہر آغاز ہوا ہے اور نہ ہی اس مقصد کے لیے کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے تھے جہاں پر سکیورٹی کے لیے فوج کے تین لاکھ 71 ہزار افسروں اور جوانوں کو تعینات کیا گیا تھا۔

ان میں سے بہت سے فوجی افسروں کو پولنگ کے دوران مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے تھے۔ نگراں وزیر قانون علی ظفر سینیٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کے مطالبے کے باوجود آج تک ایسے فوجی افسران کی فہرست ایوان میں پیش نہیں کر سکے جنھیں مجسٹریٹ کے اختیارات دیے گئے تھے اور نہ ہی حکومت کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان سامنے آیا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہ

Read more